کرپشن الزامات پر نیشنل بینک کے سابق صدر سید علی رضا گرفتار

کراچی: سابق صدر نیشنل بینک سید علی رضا کو قومی احتساب ادارے (نیب) نے گرفتار کرلیا۔ علی رضا اور دیگر ملزمان پر نیشنل بینک کی بنگلہ دیش میں واقع شاخ میں 18 ارب روپے کی خرد برد کا الزام ہے۔

نیشنل بینک کے سابق صدر سید علی رضا کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد علی شیخ کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بینچ نے سید علی رضا سمیت 7 ملزمان کی عبوری ضمانت منسوخ کردی۔

احاطہ عدالت سے باہر آنے پر سید علی رضا کو نیب کے تفتیشی افسر نے گرفتار کرلیا۔

واضح رہے کہ سید علی رضا اور بینک کے 7 دیگر ملازمین پر نیشنل بینک کی بنگلہ دیش میں واقع شاخ میں 18 ارب روپے کی خرد برد کا الزام تھا۔

مذکورہ الزامات سامنے آنے کے بعد نیب نے سید علی رضا اور دیگر ملزمان کے خلاف تفتیش شروع کردی جس کے بعد علی رضا نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے 5 لاکھ روپے مچلکے کے عوض ان کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

اس دوران علی رضا نے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے تھے کہا تھا کہ وہ خود بینک کے گروپ چیفس کے ماتحت تھے جو بینک میں کسی بھی قانون ورزی کے خلاف کارروائی کے مجاز تھے۔

علی رضا کا مؤقف تھا کہ انہوں نے 14 جنوری 2011 میں اپنا عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا تاہم 21 اگست 2015 کو انہیں نیب کی جانب سے نوٹس موصول ہوا کہ وہ تفتیش کے لیے نیب میں پیش ہوں۔

آج سندھ ہائیکورٹ میں علی رضا کے ساتھ دیگر تمام ملزمان کی عبوری ضمانت منسوخ کردی گئی جبکہ علی رضا کے ساتھ 2 ملزمان عمران بٹ اور زبیر احمد کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔

نیب افسران سید علی رضا کو اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ سید علی رضا کو نیشنل بینک کے صدر کے عہدے پر طویل ترین عرصے تک فائز رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس سے قبل وہ بینک آف امریکا کی جنوبی افریقہ میں واقعہ شاخ میں بھی اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

بطور صدر نیشنل بینک انہوں نے بینک کے منافعوں میں اضافہ کیا جبکہ ان کے دور میں قرضوں کی واپسی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔

سید علی رضا کو پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ سنہ 2006 میں بزنس ویک جریدے نے انہیں ’ایشیا کے 25 ستارے‘ نامی فہرست میں بطور صنعت کار چوتھے نمبر پر فائز کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں